World
ناروے کی آرکٹک میں نئی ڈرلنگ: توانائی سکیورٹی پر یورپی یونین کا موقف تبدیل
ناروے نے توانائی کے بحران اور یورپی ممالک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر آرکٹک کے خطے میں مزید ڈرلنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو یورپی یونین کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے جو یوکرین جنگ کے بعد توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے فکر مند ہے۔
ناروے کی حکومت نے آرکٹک کے حساس سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کی نئی تلاش اور ڈرلنگ کے منصوبوں کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بنیادی محرک یورپ میں درپیش توانائی کا سنگین بحران ہے جو یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ ناروے، جو پہلے ہی یورپ کے لیے قدرتی گیس کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بن چکا ہے، اب آرکٹک کے ان ذخائر کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے جو طویل عرصے سے ماحولیاتی تحفظ کے تحت زیرِ بحث تھے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یورپ کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آرکٹک کے وسائل تک رسائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان بھی اس حوالے سے ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ماضی میں یورپی یونین آرکٹک میں کسی بھی قسم کی نئی کان کنی اور ڈرلنگ پر مکمل پابندی کے حق میں رہی تھی، تاہم موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے انہیں اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کی سکیورٹی اب ترجیحی بنیادوں پر ہے اور روس پر انحصار کم کرنے کے لیے ناروے کے ذخائر ایک کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن حکومتی حلقے اسے ایک تزویراتی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ناروے کی معیشت کے لیے ایک بڑا فروغ ثابت ہوگا بلکہ یورپی ممالک کے لیے سردیوں کے موسم میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ایک ذریعہ بھی بنے گا۔ تاہم، اس منصوبے پر عمل درآمد کرتے وقت سخت ماحولیاتی معیارات کا اطلاق کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے تاکہ آرکٹک کے نازک ایکو سسٹم کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ ناروے کا یہ اقدام عالمی سطح پر توانائی کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے عزم ہیں تو دوسری طرف توانائی کی فوری ضروریات کا دباؤ ہے۔ آنے والے مہینوں میں یورپی یونین کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے حتمی پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔