Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اگست سے کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات اور مقامی سطح پر تیل کی سپلائی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 341 روپے 98 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 2 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب ڈیزل 370 روپے 69 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اگست سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں 114 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس نافذ ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں یہ ردوبدل ضروری تھا۔ ماضی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپریل کے اوائل میں اپنی بلند ترین سطح پر تھیں، تاہم اب حکومت عالمی مارکیٹ کی نقل و حرکت کے مطابق قیمتوں کا تعین کر رہی ہے۔
پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں شفافیت لانے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری اثر مقامی مارکیٹ میں پہنچانا ہے۔ حکومت اس سے قبل ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کر رہی تھی، لیکن اب بدلتے حالات کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ پیٹرول بنیادی طور پر نجی سواریوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، جس سے متوسط طبقے کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ کھپت تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ٹن ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔