LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان: مشترکہ اپوزیشن کا حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ

News Image
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں ایک مشترکہ اتحاد قائم کرتے ہوئے ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، سیاسی جبر اور امن و امان کی خراب صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے دوران رہنماؤں نے صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی بنیادوں پر حملہ قرار دیا اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر منعقدہ اپوزیشن جماعتوں کے اہم اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر ایک مشترکہ کردار ادا کرنے اور باہمی مشاورت سے فیصلے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک اس قسم کے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہ عمل وفاقی اکائیوں کے درمیان بد اعتمادی میں اضافے کا باعث بنے گا۔ محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کے اتحاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں جاری بدامنی اور خونریزی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ انہوں نے آئینی طریقہ کار کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو پاکستان کی بنیادوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ عوام ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کا غریب طبقہ مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے تعلیم اور صحت کے نظام کی تباہی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اب ایک آواز بن کر پارلیمنٹ میں اپنا موقف پیش کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان، مہنگائی اور خارجہ تعلقات جیسے اہم قومی معاملات پر اپوزیشن متفقہ حکمت عملی اپنائے گی۔ انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت اور بانی پی ٹی آئی کی طبی سہولیات سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کو قانون کی حکمرانی کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ موجودہ دور میں شہریوں کی عزتِ نفس اور گھروں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام اپوزیشن رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سیاسی جبر کے خاتمے، آئین کی بالادستی اور ملک کو موجودہ معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے ایک مشترکہ محاذ کے طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کرے اور ملک میں ایک مثبت سیاسی ماحول پیدا کیا جائے تاکہ قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔ اپوزیشن کا یہ اتحاد آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی چیلنج کے طور پر سامنے آئے گا، کیونکہ تمام جماعتوں نے مل کر پارلیمانی سطح پر اپنا بھرپور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔