LIVE
Loading Breaking News...

امریکی شیئر مارکیٹ میں مندی، ٹیکنالوجی اسٹاکس متاثر

News Image
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ٹیک سیکٹر کے حصص میں گراوٹ کے باعث ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئے۔ سرمایہ کار ایران پر مزید پابندیوں کے خدشات اور انویڈیا کی آنے والی مالیاتی رپورٹس کے حوالے سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے دوران شدید دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مندی کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ ہے۔ سرمایہ کار اس وقت عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے امکانات کے پیش نظر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات کو مزید ہوا دی ہے جس کے اثرات براہ راست اسٹاک مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، مارکیٹ کی تمام تر توجہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے کی دیو ہیکل کمپنی 'انویڈیا' (Nvidia) کی آنے والی سہ ماہی مالیاتی رپورٹس پر مرکوز ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ کیا انویڈیا اپنے گزشتہ شاندار کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ ٹیکنالوجی سیکٹر کے دیگر بڑے ناموں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نیس ڈیک جیسے انڈیکس کو منفی زون میں دھکیل دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انویڈیا کے نتائج آنے والی مدت میں نہ صرف ٹیک سیکٹر بلکہ مجموعی طور پر امریکی معیشت کے مستقبل کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے کئی بڑے سرمایہ کاروں نے اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مندی محض ایک وقتی ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے کیونکہ مارکیٹ کے بنیادی اصول ابھی بھی مضبوط ہیں۔ آنے والے دنوں میں ایران سے متعلق پالیسیوں اور کارپوریٹ نتائج کے اثرات مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ مجموعی طور پر، وال اسٹریٹ فی الحال ایک نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر چھوٹی خبر یا پالیسی بیان اسٹاک کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو کو متوازن رکھیں۔