LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ایچ-1 بی ویزا فیس: ایک لاکھ ڈالر سے زائد کا نیا ٹیکس عائد

News Image
امریکہ نے ایچ-1 بی ورک ویزا حاصل کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے فیس میں ایک لاکھ ڈالر سے زائد کا غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ اس اقدام سے دنیا بھر بشمول پاکستان سے امریکہ جانے والے آئی ٹی ماہرین اور ہنر مند افراد متاثر ہوں گے۔
امریکہ نے اپنے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایچ-1 بی ورک ویزا کی فیس میں ایک لاکھ ڈالر سے زائد کا بھاری اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو امریکہ میں روزگار کے متلاشی ہیں اور خاص طور پر ان آئی ٹی کمپنیوں کے لیے جو بڑے پیمانے پر غیر ملکیوں کو ملازمت پر رکھتی ہیں۔ یہ نیا اضافہ ویزا درخواستوں کے عمل کو مزید مہنگا اور پیچیدہ بنا دے گا جس سے بہت سے پیشہ ور افراد کی امریکہ میں کام کرنے کی راہ مزید مشکل ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکی افرادی قوت کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملکی وسائل کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس فیصلے کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس نئی فیس کی تفصیلات کے مطابق، کمپنیاں جو اب بھی غیر ملکی ورکرز کو ہائر کرنے پر اصرار کریں گی، انہیں بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھرتیوں کے عمل میں سست روی آ سکتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے ہزاروں آئی ٹی پروفیشنلز ہر سال ایچ-1 بی ویزا کے ذریعے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، اور اب اس نئے مالی بوجھ کے بعد کمپنیاں ممکنہ طور پر غیر ملکی ہائرنگ کے بجائے مقامی شہریوں کو ترجیح دیں گی، جس سے عالمی ٹیلنٹ مارکیٹ میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کے اندر مقامی لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف انفرادی طور پر ورکرز متاثر ہوں گے بلکہ بڑی ٹیک کمپنیاں بھی اپنے بجٹ کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور ہوں گی۔ امریکی حکومت کی جانب سے اس متنازعہ فیصلے کے بعد عالمی سطح پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں گے۔