LIVE
Loading Breaking News...

پانی کی قلت کا بحران اور اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت

News Image
احمد آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران ماہرین نے زور دیا ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی پالیسیوں پر انحصار ناکافی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال اور کمیونٹی کی شمولیت کو دیرپا حل قرار دیا ہے۔
احمد آباد میں حال ہی میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس کے دوران ماحولیاتی اور آبی ماہرین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پانی کی سیکیورٹی کا مسئلہ محض سرکاری پالیسیوں یا کاغذی اقدامات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے شرکاء نے زور دیا کہ حکومتوں، نجی شعبے اور عام شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر ٹھوس حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اس تقریب میں ماہرین نے ٹیکنالوجی کے کردار کو کلیدی قرار دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید سائنسی آلات کی مدد سے پانی کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے اور زرعی و صنعتی شعبوں میں پانی کے بہتر استعمال کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ 'گرین فنانس' یعنی سبز مالیات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی، تاکہ آبی تحفظ کے منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی میں آسانی ہو سکے۔ ماہرین کا موقف تھا کہ تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری کیے بغیر ہم پانی کے طویل المدتی بحران پر قابو نہیں پا سکتے۔ کانفرنس کا ایک اہم پہلو کمیونٹی کی شمولیت اور آگاہی رہا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک مقامی آبادی کو پانی کے تحفظ کے منصوبوں میں شامل نہیں کیا جاتا، تب تک کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی ایک محدود وسیلہ ہے اور اس کا بے دریغ استعمال مستقبل کی نسلوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اسکولوں سے لے کر دیہی سطح تک پانی بچانے کی مہمات چلائی جائیں تاکہ ایک ذمہ دار معاشرہ تشکیل پائے۔ آخر میں، ماہرین نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پانی کے انتظام کے لیے ایسے قوانین وضع کریں جو نہ صرف سخت ہوں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا سکے۔ پانی کی سیکیورٹی کو قومی سلامتی کے اہم ایجنڈے میں شامل کرنا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ صرف اجتماعی سوچ اور عملی اقدامات ہی وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے آبی وسائل کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور سرسبز مستقبل چھوڑ سکتے ہیں۔