LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ڈیٹا سینٹرز کیلئے آسٹریلیا میں نئے توانائی قوانین کا نفاذ

News Image
آسٹریلوی حکومت مصنوعی ذہانت کے مراکز کے لیے توانائی اور پانی کے استعمال کے نئے قومی قوانین کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کی کوئنز لینڈ کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے لیکن وفاقی حکومت اسے ہر صورت نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
آسٹریلیا کے وفاقی حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی اور پانی کے استعمال سے متعلق سخت اور نئے قومی قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز کی قیادت میں یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے توانائی کی بھاری مقدار درکار ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق، بدھ کو ہونے والے قومی کابینہ کے اجلاس میں ان اصولوں کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ مستقبل کی تکنیکی ضروریات کو منظم انداز میں پورا کیا جا سکے۔ اس حکومتی فیصلے کو کوئنز لینڈ کی ریاستی حکومت کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ یکطرفہ فیصلہ ان کے علاقائی خودمختاری کے حقوق اور مقامی توانائی کی پالیسیوں کے منافی ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ریاستیں تعاون نہیں کرتیں، تو وہ آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کے ذریعے ان ضوابط کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ البانیز انتظامیہ کا موقف ہے کہ قومی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کے لیے یکساں قوانین کا ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاری کو تحفظ ملے اور توانائی کے گرڈ پر غیر ضروری بوجھ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ نئے قوانین کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے ان مراکز کے لیے توانائی کی کھپت کو ماحول دوست اور پائیدار بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کو درکار بجلی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ روایتی توانائی کے ذرائع پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ وفاقی حکومت ان اقدامات کے ذریعے یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ آسٹریلیا تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی موسمیاتی ذمہ داریوں کو بھی پورا کر سکے۔ اس مسئلے پر وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان کشیدگی سیاسی حلقوں میں بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد ان نئے ضوابط کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا، جس کے تحت ڈیٹا سینٹرز کے آپریٹرز کو پانی اور بجلی کے استعمال میں کارکردگی کے نئے معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ یہ فیصلہ آسٹریلیا کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں وفاقی حکومت ریاستی حدود سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں سخت فیصلے کرنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو سنبھالنے کے لیے پالیسی سازی کر رہے ہیں۔