Technology
ڈاکٹر ڈری کا اے آئی کے استعمال پر بڑا بیان
معروف میوزک پروڈیوسر ڈاکٹر ڈری نے اعتراف کیا ہے کہ وہ موسیقی کی تیاری کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اے آئی کو ایک خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تخلیقی صنعتوں میں جاری بحث کے دوران موسیقی کی دنیا کے لیجنڈ ڈاکٹر ڈری نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ آٹھ مرتبہ گریمی ایوارڈ جیتنے والے اس نامور میوزک پروڈیوسر نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی موسیقی کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مفید آلے کے طور پر قبول کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈری کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فنکار اے آئی کے ممکنہ اثرات اور کاپی رائٹ کے مسائل پر تقسیم کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر ڈری کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک اے آئی کا استعمال ان کے کام کو مزید جدید اور بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروڈکشن کے عمل میں نئے تجربات کرنا ان کا پرانا شوق رہا ہے اور اے آئی ان کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے۔ موسیقی کے ناقدین اور ماہرین کے نزدیک ڈاکٹر ڈری کا یہ عمل موسیقی کی صنعت میں ایک بڑے تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں بہت سے فنکار اے آئی کو اپنی روزی روٹی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں، وہیں ڈاکٹر ڈری جیسے بڑے پروڈیوسر کا اس ٹیکنالوجی کو گلے لگانا یہ ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا امتزاج ہی موسیقی کی صنعت کا نیا معیار بنے گا۔ آخر میں ڈاکٹر ڈری نے اپنے مداحوں اور ساتھی فنکاروں پر زور دیا کہ وہ نئی تبدیلیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان سے سیکھنے کی کوشش کریں تاکہ تخلیقی میدان میں مزید جدت لائی جا سکے۔ ان کا یہ بیان نہ صرف موسیقی کی صنعت میں بلکہ ٹیکنالوجی کے حامیوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام سمجھا جا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کو اگر درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی تخلیقی عمل کو مزید بہتر اور تیز تر بنا سکتا ہے۔