Technology
امریکہ بمقابلہ چین مصنوعی ذہانت کی جنگ، ایشیائی مارکیٹ کا منظرنامہ
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں امریکہ اور چین کے درمیان ایشیائی مارکیٹ پر تسلط حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکہ اپنی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہا ہے، وہیں چین سستے اور مؤثر ماڈلز کی بدولت مارکیٹ میں سبقت لے جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے عالمی میدان میں امریکہ اور چین کے مابین مسابقت اب ایشیا کے خطے میں شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں چین کے شہر چینگڈو میں منعقد ہونے والی اے پیک ڈیجیٹل ویکس کے دوران یہ منظر عام پر آیا کہ کس طرح عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس ابھرتی ہوئی مارکیٹ پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی جدید ترین مصنوعات کو ایشیائی ممالک میں متعارف کرانے کی خواہشمند ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس کہانی سنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی کمپنیاں اپنی جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور پریمیم ماڈلز کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، لیکن ایشیا کے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چینی کمپنیاں اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی کم لاگت اور سستے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز فراہم کر رہی ہیں، جو مقامی کاروباروں اور صارفین کی پہنچ میں زیادہ آسان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیمت کا یہ فرق چینی ٹیکنالوجی کو ایشیائی منڈیوں میں تیزی سے مقبول بنا رہا ہے۔
اس ابھرتی ہوئی صورتحال نے عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تکنیکی برتری حاصل کرنے کی یہ جنگ اب صرف سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایشیا کے کروڑوں صارفین کے ڈیٹا اور مستقبل کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی جنگ بن چکی ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین کے سستے ماڈلز اس خطے میں اس کی تزویراتی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکی کمپنیاں اپنی حکمت عملی میں کس قسم کی تبدیلیاں لاتی ہیں تاکہ وہ چینی حریفوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ دریں اثنا، ایشیائی ممالک اس ٹیکنالوجی کی جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مقامی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرنے اور بہترین اور سستے ترین آپشنز کا انتخاب کرنے کی پوزیشن میں آتے جا رہے ہیں۔