LIVE
Loading Breaking News...

یوٹاہ میں ڈیٹا سینٹرز کی نگرانی کیلئے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ

News Image
ریاست یوٹاہ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے عمل پر جاری عوامی تنقید کے بعد گورنر اسپینسر کاکس نے مزید سخت ضوابط کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت اب ڈیٹا سینٹرز کی منظوری کے عمل میں اصلاحات لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ریاست یوٹاہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے جڑے حالیہ تنازعات نے ریاستی حکومت اور قانون سازوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسٹریٹوس منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والے شدید عوامی ردعمل کے بعد گورنر اسپینسر کاکس نے 20 اگست کو ہونے والی اپنی ماہانہ نیوز کانفرنس میں اس بات کا عندیہ دیا کہ مستقبل قریب میں ڈیٹا سینٹرز کی تنصیب کے عمل کو زیادہ شفاف اور سخت نگرانی کے تابع کیا جائے گا۔ ریاستی حکام کا ماننا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں ڈیٹا سینٹرز کے بجلی اور پانی کے بے دریغ استعمال پر عوامی سطح پر تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔ گورنر کاکس نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کی منظوری کے موجودہ طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے حق میں ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی بڑے پروجیکٹ کے آغاز سے قبل تمام ماحولیاتی اور شہری خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ قانون ساز اب ایسے نئے بلوں پر کام کر رہے ہیں جو کمپنیوں کو پابند کریں گے کہ وہ اپنے آپریشنز کے دوران وسائل کے استعمال کی حد مقرر کریں اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سخت قوانین سے ریاست میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے، تاہم حکومت اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک متوازن اقدام قرار دے رہی ہے۔ حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ ترقی اور عوامی فلاح کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے اور آنے والے قانون ساز اجلاس میں ان اصلاحات کو ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں عوامی دباؤ کے نتیجے میں ریاستی پالیسیوں میں فوری تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔