LIVE
Loading Breaking News...

پشین میں مزدوروں کا قتل: بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر

News Image
بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں نامعلوم مسلح افراد نے سڑک تعمیر کرنے والے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پانچ مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ افسوسناک واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کے نواحی علاقے سرانان میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے سڑک کی تعمیر میں مصروف محنت کشوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ مزدور ایک جاری ترقیاتی منصوبے پر کام کر رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان پر جدید خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے کے نتیجے میں پانچ مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک مزدور شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حملہ آور فائرنگ کرنے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ مقامی حکام نے اس واقعے کو امن و امان کو خراب کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مزدور اپنے روزگار کے سلسلے میں وہاں موجود تھے اور کسی قسم کی سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث وہ دہشت گردوں کا آسان ہدف بن گئے۔ اس دلخراش واقعے پر صوبائی و وفاقی حکام کی جانب سے شدید مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ گورنر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے اس حملے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے میں تعمیر و ترقی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مزدوروں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کے بزدلانہ حملے عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔ علاقے میں فائرنگ کے اس واقعے کے بعد خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس قتلِ عام کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملوں کے واقعات ماضی میں بھی رونما ہو چکے ہیں، جن پر قابو پانا سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ فی الحال علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے مشتبہ افراد کی چیکنگ کا عمل جاری ہے۔