Business
رائل جیارڈین اور ایئر چائنا کی شراکت داری: فضائی سفر میں نئی پیش رفت
رائل جیارڈین اور ایئر چائنا نے باہمی تعاون بڑھانے اور فضائی رابطوں کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر اور سیاحتی شعبے میں نئی راہیں ہموار کرے گا۔
رائل جیارڈین اور ایئر چائنا نے ایک اہم اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد دونوں ایئرلائنز کے درمیان فضائی آپریشنز اور مسافروں کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جیارڈن اور چین کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ دونوں اداروں کے حکام کے مطابق اس شراکت داری سے نہ صرف فضائی نیٹ ورک وسیع ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ایئرلائنز اپنے شیڈول اور ٹکٹنگ کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کریں گی تاکہ مسافروں کو بہتر سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
فضائی معاہدے کے ساتھ ساتھ چین اور جیارڈن کے اعلیٰ سطحی سیاسی رابطے بھی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ جیارڈن کے شاہ عبداللہ دوم کے دورہ چین کے موقع پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور فلسطین کے دیرینہ تنازع پر تفصیلی گفتگو کی۔ چین اور جیارڈن کی قیادت کا ماننا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کا واحد پائیدار حل دو ریاستی حل ہی ہے جس کے ذریعے خطے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک نے غزہ میں فوری اور دیرپا جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر بھی زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، چین کا مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا اور جیارڈن جیسے کلیدی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ کی غیر متوقع پالیسیوں کے پیش نظر خطے کے ممالک اب چین کی جانب دیکھ رہے ہیں تاکہ اپنے معاشی اور سفارتی تعلقات کو متنوع بنایا جا سکے۔ رائل جیارڈین اور ایئر چائنا کا یہ معاہدہ اسی طویل مدتی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت معاشی روابط کو مضبوط کرتے ہوئے سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس شراکت داری سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور بزنس کلاس کے مسافروں کے ساتھ ساتھ عام سیاحوں کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ چین، جو کہ عالمی سطح پر ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ ایوی ایشن معاہدہ اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کڑی ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے آئندہ بھی اسی طرح کے اقتصادی منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے۔