Business
خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، ایران پر امریکی پابندیوں کا تجزیہ
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ امریکی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی حکمت عملی کا اعلان ہے۔ اس اقدام نے عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور تیل کی طلب میں کمی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ روز نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی نئی اقتصادی حکمت عملی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کے تحت ایران پر دباؤ بڑھانے کے اعلان نے سرمایہ کاروں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس نئی حکمت عملی میں فی الحال ایران پر نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا گیا ہے، تاہم مارکیٹ اس صورتحال کو محتاط انداز میں دیکھ رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ تاجر اب اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ مستقبل میں یہ پابندیاں عالمی سپلائی چین پر کیا اثرات مرتب کریں گی۔
اس صورتحال کے ساتھ ساتھ عالمی سرمایہ کار اب امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی جانب سے متوقع خطاب پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور سونا تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معاشی پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی آزمائش ثابت ہو رہی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کا یہ اقدام دراصل ملک کی معاشی تنہائی کو مزید گہرا کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کے اثرات براہِ راست عالمی منڈی میں تیل کی رسد پر پڑ رہے ہیں۔
مزید برآں، 'اکنامک ڈی ڈے' کے نام سے منسوب اس صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹس میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور نئی امریکی پابندیوں کے طویل مدتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور دیگر عالمی ادارے بھی ان پیش رفتوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے جواباً کوئی اقدام اٹھایا گیا یا آبنائے ہرمز کی صورتحال متاثر ہوئی، تو عالمی منڈی میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے اوپر کی طرف جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔