World
غزہ میں پتنگ بازی پر اسرائیلی حملوں کی دھمکیاں: تازہ صورتحال
اسرائیلی حکام نے غزہ میں بچوں کی جانب سے پتنگیں اڑائے جانے کے عمل کو سیکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہوئے حملوں میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور بڑے پیمانے پر جبری انخلاء کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایک نیا اور متنازعہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں بچوں کی جانب سے پتنگ بازی پر اسرائیل شدید فوجی کارروائیوں اور علاقہ مکینوں کے جبری انخلاء کا آغاز کر سکتا ہے۔ اسرائیلی دفاعی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ اس دھمکی میں پتنگوں کو ایک سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پہلے ہی شدید انسانی بحران اور مسلسل ناکہ بندی کا شکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کو ایک فوجی خطرہ قرار دے کر حملوں میں شدت لانے کا اعلان دراصل فلسطینی بچوں کے معمولی کھیل کو بھی اسرائیلی جارحیت کا ہدف بنانے کی کوشش ہے۔ غزہ کے رہائشیوں نے اس دھمکی کو سراسر غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکالنے اور خوفزدہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تفریح کو سیکیورٹی کے نام پر نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس صورتحال نے مقامی آبادی میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اسرائیل کی جانب سے جبری انخلاء کی دھمکیاں ماضی میں بھی تباہ کن ثابت ہوئی ہیں۔ غزہ کے عوام اب ایک نئی بے گھری کے خوف میں مبتلا ہیں، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس جارحانہ پالیسی کا نوٹس لے۔ اگر اسرائیل اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں پہلے سے ہی انسانی امداد کے منتظر غزہ کے عوام کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ اسرائیل کا یہ موقف کہ پتنگیں سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی اسرائیل نے مختلف حیلوں بہانوں سے غزہ میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ فی الحال غزہ کے عوام سخت خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور عالمی اداروں کی جانب سے فوری مداخلت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔