World
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، پانچ فلسطینی شہید
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ امدادی کارکنوں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ فضائی حملوں نے ایک بار پھر انسانی بحران کو شدت دے دی ہے۔ غزہ کے مقامی ریسکیو اداروں اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے کارکنوں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی موت نے علاقے میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔ حملے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا وہاں عام شہری موجود تھے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ارد گرد کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ امدادی کارکنوں کو ملبے سے لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ علاقے میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہے اور بجلی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع کے دوران عام شہریوں، خاص طور پر بچوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ غزہ میں جاری اس تازہ ترین خونی کارروائی کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں اسپتالوں اور تباہ شدہ عمارتوں کے گرد جمع ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں گزشتہ طویل عرصے سے جاری محاصرے اور فوجی کارروائیوں کے باعث صحت کی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور غزہ میں جاری اس خونریزی کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ مزید معصوم جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔