Health
ایلی للی کی نئی وزن کم کرنے والی گولی فاؤنڈائیو برطانیہ میں دستیاب
ادویہ ساز کمپنی ایلی للی نے برطانیہ میں موٹاپے کے علاج کے لیے ایک نئی زبانی دوا 'فاؤنڈائیو' لانچ کر دی ہے۔ یہ دوا ان مریضوں کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے جو انجیکشن کے بجائے گولیاں استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
برطانیہ میں موٹاپے اور وزن کے مسائل سے نبردآزما لاکھوں افراد کے لیے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں عالمی سطح پر مشہور ادویہ ساز کمپنی ایلی للی نے اپنی نئی زبانی (oral) دوا 'فاؤنڈائیو' (Foundayo) باضابطہ طور پر متعارف کروا دی ہے۔ یہ دوا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اپنے وزن کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں مگر انجیکشن لگوانے سے گریز کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جدید دوا وزن میں کمی کے سفر کو نہ صرف آسان بنائے گی بلکہ مریضوں کو روزمرہ کے معمولات میں سہولت بھی فراہم کرے گی۔ ماہرین صحت اسے موٹاپے کے علاج کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
اس دوا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ گولی کی شکل میں دستیاب ہے، جو اسے ماضی میں متعارف کروائی گئی انجیکشن والی ادویات سے ممتاز کرتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق، فاؤنڈائیو کا استعمال جسم میں ان ہارمونز کو متحرک کرتا ہے جو بھوک کو کم کرنے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کمپنی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ دوا ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں ہی استعمال کی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے ضمنی اثرات سے بچا جا سکے۔ برطانوی ہیلتھ ریگولیٹرز نے اس دوا کے معیار اور افادیت کا جائزہ لینے کے بعد اس کے استعمال کی اجازت دی ہے، جس کے بعد اب یہ برطانوی مارکیٹ میں طبی مشورے کے ساتھ دستیاب ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں موٹاپے کی شرح میں اضافہ تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس اور دل کے امراض جیسی بیماریاں بھی عام ہو رہی ہیں۔ ایلی للی کی اس نئی دوا سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نہ صرف مریضوں کے وزن میں نمایاں کمی لانے میں مدد کرے گی بلکہ مستقبل میں ان پیچیدہ بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ اگرچہ اس دوا کو ایک مؤثر علاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ڈاکٹروں نے اب بھی متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش کو صحت مند طرز زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔
توقع ہے کہ فاؤنڈائیو کی آمد سے برطانوی فارماسوٹیکل مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا، جس کا حتمی فائدہ مریضوں کو کم قیمت اور بہتر علاج کی صورت میں مل سکتا ہے۔ ایلی للی نے اس دوا کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے برطانوی ہیلتھ کیئر نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ فی الحال، یہ دوا ان مخصوص مریضوں کے لیے تجویز کی جائے گی جن کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) طبی معیارات کے مطابق موٹاپے کے زمرے میں آتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس دوا کے نتائج کے حوالے سے مزید ڈیٹا سامنے آنے کی توقع ہے جو طبی دنیا میں اس کی افادیت کو مزید واضح کرے گا۔