Health
RGX-121 جین تھراپی: ریجن ایکس بائیو کو بڑا دھچکا
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ریجن ایکس بائیو کی جین تھراپی RGX-121 پر کلینیکل ہولڈ لگا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور جاری تجربات کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لینا ہے۔
بائیو ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ریجن ایکس بائیو (Regenxbio) کو اس وقت ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے جب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے ان کی تجرباتی جین تھراپی RGX-121 پر کلینیکل ہولڈ لگا دیا ہے۔ یہ تھراپی بنیادی طور پر ایک جینیاتی بیماری کے علاج کے لیے تیار کی جا رہی تھی، لیکن ریگولیٹری ادارے کی جانب سے اس پیش رفت پر لگائی گئی پابندی نے کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کلینیکل ہولڈ کا مطلب ہے کہ اب اس جین تھراپی سے متعلق جاری تمام طبی تجربات کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے جب تک کہ تمام سیکیورٹی خدشات کا مکمل جائزہ نہ لے لیا جائے۔
اس فیصلے کے بعد طبی اور سائنسی حلقوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ ریجن ایکس بائیو کے حکام نے بتایا ہے کہ وہ ایف ڈی اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کلینیکل ہولڈ کی وجوہات کو سمجھ سکیں اور ان کو حل کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھا سکیں۔ عام طور پر اس طرح کے ہولڈ تب لگائے جاتے ہیں جب تجربات کے دوران مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے کوئی خدشہ سامنے آئے یا ڈیٹا کے تجزیے میں کوئی تضاد پایا جائے۔ تاہم، کمپنی کی جانب سے تاحال ان مخصوص وجوہات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جن کی بنا پر یہ سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ RGX-121 ایک ایسی جدید جین تھراپی ہے جسے ایک نایاب جینیاتی عارضے کے علاج کے لیے امید کی کرن سمجھا جا رہا تھا۔ اگر یہ تھراپی کامیاب ہو جاتی تو بہت سے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی راہیں کھل سکتی تھیں۔ اب سرمایہ کاروں اور طبی ماہرین کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا ریجن ایکس بائیو اپنے ڈیٹا کو ریگولیٹری معیارات کے مطابق دوبارہ ترتیب دے پاتی ہے یا نہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مریضوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ایف ڈی اے کے تمام رہنما خطوط پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔
مستقبل کے حوالے سے ریجن ایکس بائیو نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر شفافیت برقرار رکھیں گے اور جلد ہی اگلا لائحہ عمل جاری کریں گے۔ اس طرح کے واقعات بائیو ٹیکنالوجی کی صنعت میں عام ہیں جہاں جدید علاج کی تیاری کے دوران سخت ریگولیٹری جانچ پڑتال کا عمل جاری رہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کلینیکل ہولڈ سے تحقیق کے عمل میں کتنی تاخیر ہوتی ہے اور کیا کمپنی مقررہ وقت پر دوبارہ تجربات شروع کرنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔