Politics
رانا ثناء اللہ کا جماعت اسلامی کے دھرنے پر سخت ردعمل
وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے جماعت اسلامی کے جاری احتجاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والوں کو اب اپنی تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے۔
وفاقی مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ نے جماعت اسلامی کے جاری احتجاجی دھرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک عمل قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس طرح سے مطالبات کے نام پر عوامی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، اس سے کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ دھرنے سے ملک کی معیشت اور عام شہریوں کی زندگی معمول پر لانے میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جو کہ کسی طور پر بھی ذمہ دارانہ سیاست کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی قیادت کو اب زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنے احتجاجی کیمپوں کو اٹھا لینے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن جب یہ احتجاج عوامی پریشانی اور ملکی نظام کی خرابی کا باعث بن جائے تو پھر اسے جاری رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں اور مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے گئے ہیں۔ تاہم دھرنے کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اب بے اثر ہو چکی ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کو اب اپنی سیاست کا رخ تعمیری مقاصد کی جانب موڑنا چاہیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومتی حلقوں کی جانب سے جماعت اسلامی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا عکاس ہے۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ معاشی استحکام کے اس اہم موڑ پر سڑکوں کو بند کرنا یا احتجاج کے ذریعے بے یقینی کی فضا پیدا کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کی قیادت اپنے مطالبات پر ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا موقف ہے کہ جب تک بجلی کے بلوں میں ریلیف اور حکومتی اخراجات میں کمی نہیں لائی جاتی، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ملک کی موجودہ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں رانا ثناء اللہ کے اس بیان نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے اس بیان کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔