LIVE
Loading Breaking News...

فریڈرک ایٹیکسیا کے مریضوں کے لیے حکومتی امداد کا مطالبہ

News Image
آئرلینڈ میں نایاب اور ترقی پذیر بیماری فریڈرک ایٹیکسیا کے شکار مریضوں نے زندگی بچانے والی ادویات کے لیے سرکاری فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے معاملات کو صرف مالیاتی مسائل تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔
آئرلینڈ سمیت دنیا بھر میں فریڈرک ایٹیکسیا (Friedreich’s Ataxia) جیسے مہلک اور نایاب مرض میں مبتلا افراد ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی ترقی پذیر بیماری ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو آہستہ آہستہ مفلوج کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کا چلنا پھرنا اور معمول کے کام کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ازابیلا ٹریورس نامی 19 سالہ نوجوان خاتون، جنہیں محض 12 برس کی عمر میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی، آج وہ وہیل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان جیسے ہزاروں مریض اب ایچ ایس ای (HSE) کی جانب سے علاج کے لیے درکار فنڈنگ کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کا ماننا ہے کہ اس بیماری کے علاج کے لیے جو ادویات دستیاب ہیں ان کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ حکومتی سطح پر فنڈنگ کی عدم دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ مریضوں کو زندگی بچانے والے علاج سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ازابیلا ٹریورس اور ان جیسے دیگر مریضوں کا یہ استدلال ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کا معاملہ محض بجٹ یا مالیاتی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جب زندگی اور موت کا سوال ہو تو حکومتوں کو ترجیحی بنیادوں پر ایسے مریضوں کی مدد کرنی چاہیے جو خود اس مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فریڈرک ایٹیکسیا جیسے نایاب امراض میں فوری مداخلت اور جدید ادویات کا استعمال بیماری کی رفتار کو سست کر سکتا ہے اور مریض کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم، سرکاری فنڈنگ میں تاخیر سے مریضوں کی حالت مزید بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مریضوں کی تنظیمیں اب ایک مضبوط مہم چلا رہی ہیں تاکہ حکومت کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ صحت کی دیکھ بھال ان کا بنیادی حق ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ صحت کے بجٹ میں ایسے نایاب امراض کے علاج کو خصوصی جگہ دی جائے تاکہ کوئی بھی مریض صرف اس لیے اپنی جان نہ گنوائے کہ اس کے پاس علاج کے لیے رقم نہیں تھی۔ اس صورتحال نے ایک اخلاقی بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ آیا ایک فلاحی ریاست کو مالی مسائل کے پیش نظر مریضوں کی جانوں کو داؤ پر لگانا چاہیے یا نہیں۔ مریضوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اب سب کی نظریں حکومت کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ ان مریضوں کی پکار سنتی ہے یا انہیں ان کی قسمت پر چھوڑ دیتی ہے۔ فریڈرک ایٹیکسیا کے شکار افراد کے لیے ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آ رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ حکام جلد ہی فنڈنگ کی منظوری دے کر سینکڑوں خاندانوں کو ریلیف فراہم کریں گے۔