LIVE
Loading Breaking News...

لنڈا میک موہن کا انٹرویو: امریکی تعلیمی نظام پر سوالات

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزد کردہ وزیر تعلیم لنڈا میک موہن کی جانب سے اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق سوال پر الجھ جانے کے بعد اساتذہ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تعلیم جیسے حساس شعبے کے سربراہ کا اس طرح کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ وزیر تعلیم اور ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (WWE) کی شریک بانی لنڈا میک موہن نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران ایسی صورتحال پیدا کر دی جس نے ملک بھر کے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کو سیخ پا کر دیا ہے۔ سی این این کے ایک پروگرام کے دوران جب ان سے کلاس رومز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور طلبا پر اس کے اثرات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وہ واضح طور پر الجھتی ہوئی دکھائی دیں، جس سے ان کی تعلیمی پالیسیوں پر گرفت پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اساتذہ کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک ایسی شخصیت کو ملک کے تعلیمی نظام کی سربراہی دی جا رہی ہو جس کا پس منظر تعلیمی شعبے سے نہیں بلکہ تفریحی اور کمرشل انڈسٹری سے ہے، تو اس طرح کی غلطیاں ہونا حیران کن نہیں۔ انٹرویو کے دوران لنڈا میک موہن کی ہچکچاہٹ اور ٹیکنالوجی کے اثرات پر لا علمی نے اساتذہ کے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ موجودہ انتظامیہ طلبا کو محض تجرباتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جانب مائل ہے۔ اساتذہ نے سوشل میڈیا پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ' قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کلاس روم میں ٹیکنالوجی کا استعمال ایک نہایت حساس معاملہ ہے جس کے لیے گہری بصیرت اور علمی پس منظر درکار ہے۔ لنڈا میک موہن کی جانب سے اس سوال کو مناسب طریقے سے نہ سمجھ پانا یا اس کا جواب نہ دے سکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات میں تعلیمی بہتری کے بجائے کچھ اور عوامل شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد اب تعلیمی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا لنڈا میک موہن اس عہدے کے لیے درکار اہلیت اور تجربہ رکھتی ہیں یا نہیں۔ صورتحال کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اساتذہ برادری پہلے ہی امریکی تعلیمی نظام میں درپیش بجٹ کے مسائل اور پالیسیوں میں تبدیلیوں پر تشویش کا شکار تھی۔ اس تازہ ترین واقعے نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی بات کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس کے نفاذ کے ذمہ داران کا اس طرح کا رویہ نظام کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید عوامی بحث اور تعلیمی تنظیموں کی جانب سے دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔