Business
کیون اولیری کا نیویارک کے میئر پر طنزیہ بیان: رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ہلچل
مشہور سرمایہ کار کیون اولیری نے نیویارک سے لوگوں کے انخلا پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے وہاں کے میئر کو 'رئیل اسٹیٹ ایجنٹ آف دی ایئر' قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیویارک کی پالیسیوں کی وجہ سے لوگ تیزی سے فلوریڈا منتقل ہو رہے ہیں جو کہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
مشہور سرمایہ کار اور 'شارک ٹینک' کے معروف چہرے کیون اولیری نے نیویارک شہر کی انتظامیہ اور وہاں کی موجودہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران، اولیری نے نیویارک کے میئر پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا اور کہا کہ انہیں 'رئیل اسٹیٹ ایجنٹ آف دی ایئر' کا ایوارڈ دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نیویارک میں موجودہ معاشی اور انتظامی حالات کی وجہ سے لوگ بڑے پیمانے پر شہر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ فلوریڈا جیسی ریاستوں کو پہنچ رہا ہے۔ کیون اولیری کا ماننا ہے کہ نیویارک میں کاروباری مواقع میں کمی اور ٹیکسوں کے بوجھ نے شہریوں کو دوسرے شہروں کی جانب نقل مکانی پر آمادہ کر دیا ہے۔ اولیری نے مزید کہا کہ یہ صورتحال 'انتہائی پاگل پن' پر مبنی ہے، لیکن وہ ذاتی طور پر اسے ایک دلچسپ معاشی رجحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ کس طرح نیویارک سے نکلنے والا سرمایہ اور ہنرمند افراد فلوریڈا میں منتقل ہو رہے ہیں، جہاں کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اس تبدیلی سے تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو ایک طرح کا 'علاقائی تبادلہ' قرار دیا جو نیویارک کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیون اولیری کا یہ بیان اگرچہ ایک طنز ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی امریکی ریاستوں میں پالیسیوں کے فرق کی وجہ سے ہجرت کا ایک نیا رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ خاص طور پر ٹیکس اور کاروبار دوست ماحول نہ ہونے کی وجہ سے نیویارک جیسے شہر اب اپنی کشش کھوتے جا رہے ہیں۔ اولیری کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں لوگ نیویارک کے میئر کی انتظامی کارکردگی اور شہر کے مستقبل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بلاشبہ کیون اولیری کا یہ تبصرہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی شہر کی ترقی کا انحصار اس کے کاروباری ماحول پر ہوتا ہے، اور اگر پالیسیاں سخت ہوں گی تو سرمایہ اور لوگ یقیناً بہتر مواقع کی تلاش میں کہیں اور چلے جائیں گے۔