Technology
کوئلے کے ویسٹ سے سڑکیں: نئی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیوکنالوجی رورکیلا کے محققین نے کوئلے کی کان کنی کے فضلے اور فلائی ایش سے ایک مضبوط کمپوزٹ میٹریل تیار کرنے کا پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے۔ یہ نئی ایجاد سڑکوں کی تعمیر میں پائیداری اور لاگت کو کم کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) رورکیلا کے محققین نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے جو سڑکوں کی تعمیر کے شعبے میں ماحولیاتی اور اقتصادی اعتبار سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کے تحت کوئلے کی کان کنی سے نکلنے والے فضلے اور تھرمل پاور پلانٹس کی 'فلائی ایش' کو ملا کر ایک انتہائی مضبوط کمپوزٹ میٹریل تیار کیا گیا ہے۔ یہ مٹیریل نہ صرف سڑکوں کی پائیداری کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کوئلے کے فضلے کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان کنی کے دوران بڑی مقدار میں فضلہ پیدا ہوتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور اسے تلف کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ نئی تیار کردہ کمپوزٹ ٹیکنالوجی اس فضلے کو ایک کارآمد خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ میٹریل روایتی تعمیراتی مواد کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائیدار ہے اور شدید موسمی حالات کو برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیشرفت سے سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے قدرتی وسائل پر انحصار کم ہوگا اور لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف انفراسٹرکچر کے معیار کو بہتر بنائے گی بلکہ سرکلر اکانومی (Circular Economy) کو بھی فروغ دے گی۔ اس جدید تعمیراتی مواد کو بنانے کا عمل سادہ اور ماحول دوست ہے، جو کہ اسے کمرشل پیمانے پر استعمال کے لیے بھی موزوں بناتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ تعمیراتی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اب اسے جلد ہی سڑکوں کی تعمیر کے آزمائشی منصوبوں میں استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رورکیلا کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر سائنسی تحقیق کو ماحولیاتی مسائل کے حل کے ساتھ جوڑا جائے تو کتنے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقتوں میں سڑکوں کی تعمیر کے عالمی معیار کو تبدیل کر سکتی ہے، خاص طور پر ان خطوں کے لیے جہاں کوئلے کا فضلہ ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔