LIVE
Loading Breaking News...

ہارورڈ بزنس اسکول کا اے آئی کلونز کے ذریعے آن لائن کورس

News Image
ہارورڈ بزنس اسکول نے چھ سو ننانوے ڈالر مالیت کا ایک آن لائن کورس متعارف کرایا ہے جس میں پروفیسروں کے اے آئی کلونز طلبا کو پڑھائیں گے۔ یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی معیار اور دستیابی کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے تعلیمی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا منفرد استعمال شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کے بزنس اسکول 'فاؤنڈری' کی جانب سے متعارف کرائے گئے آٹھ ہفتوں کے انٹرپرینیورشپ کورس میں طلبا کو ایسے اے آئی ایجنٹس پڑھائیں گے جو یونیورسٹی کے اپنے پروفیسروں کے ڈیجیٹل کلونز ہیں۔ یہ کورس ان طلبا کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی باریکیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس کورس کی فیس 699 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس کے ذریعے طلبا کو ایک جدید اور خودکار تعلیمی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔ اس نئے تعلیمی تجربے کے پیچھے بنیادی مقصد یہ ہے کہ طلبا کو روایتی کلاس روم سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکھنے کا موقع دیا جائے۔ یہ اے آئی کلونز نہ صرف پروفیسروں کی آواز اور بات کرنے کے انداز کی نقل کرتے ہیں بلکہ انہیں متعلقہ شعبے کے ماہرانہ ڈیٹا سے بھی لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ طلبا کے سوالات کے جوابات درست انداز میں دے سکیں۔ ہارورڈ کا یہ اقدام اس بحث کو بھی ہوا دے رہا ہے کہ کیا مستقبل میں انسانوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز لے لیں گے یا یہ صرف تعلیمی معاونت کا ایک ذریعہ ثابت ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ہارورڈ کا یہ قدم تعلیمی میدان میں اے آئی کے وسیع تر استعمال کی ایک ابتدائی مثال ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی طلبا کو ہر وقت معلومات فراہم کرنے کی سہولت دیتی ہے، تاہم تنقید نگاروں کا ماننا ہے کہ کلاس روم میں انسانی رابطے اور جذباتی ذہانت کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود، یونیورسٹی انتظامیہ پر اعتماد ہے کہ یہ طریقہ کار طلبا کو کاروباری دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ بہتر انداز میں تیار کرے گا۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دیگر بڑی یونیورسٹیاں بھی اس ماڈل کی پیروی کریں گی یا نہیں۔