World
شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلاروس کی توقعات - ایس سی او سمٹ
بیلاروس کے عوام شنگھાઈ تعاون تنظیم کے حالیہ سربراہی اجلاس سے دوطرفہ اور علاقائی سطح پر مزید ٹھوس اقتصادی فوائد کے حصول کے خواہاں ہیں۔ تنظیم اپنی تاسیس کے پچیس برس مکمل ہونے پر جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے پچیسویں سربراہی اجلاس کے قریب آتے ہی بیلاروس کے حلقوں میں اس حوالے سے گہری دلچسپی پائی جارہی ہے کہ اس اہم پلیٹ فارم سے بیلاروس کے عوام اور معیشت کو کتنے اور کس نوعیت کے عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایس سی او نے نہ صرف اپنے دائرہ کار کو وسعت دی ہے بلکہ موجودہ ہنگامہ خیز جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق، تنظیم کے اراکین کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لیے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
اس تنظیم کی پچیس سالہ تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کی علامت بن کر ابھری ہے۔ اجلاس کے دوران بنیادی ڈھانچے اور نقل و حمل کے شعبوں میں نئے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جنہیں یوریشین تجارتی راستوں کی نئی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ ان نئے کوریڈورز سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ بیلاروس جیسے ممالک کو بھی بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جو کہ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بیلاروس کے عوام اور کاروباری طبقے کی جانب سے اس سمٹ پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ وہ باہمی تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ٹھوس اور دیرپا معاہدوں کے منتظر ہیں۔ دنیا بھر کے رہنماؤں کی اس اہم اجتماع میں شرکت اس بات کا غماز ہے کہ ایس سی او کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر تنظیم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بیلاروس کے لیے یہ پلیٹ فارم نئے شراکت داروں سے روابط استوار کرنے اور اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔