World
چین اور اردن کا آبنائے ہرمز کی بحالی اور فلسطینی تنازع پر زور
چین اور اردن کے رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو جلد از جلد معمول پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فلسطین اسرائیل تنازع کے منصفانہ حل کے لیے دو ریاستی حل کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
بیجنگ: چین اور اردن نے بین الاقوامی سفارتی سطح پر اہم اتفاق رائے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے امور کو فوری طور پر معمول پر لایا جائے۔ جنوبی چین کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اردن کے شاہ عبداللہ کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے سرفہرست رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری گزرگاہوں اور اہم تجارتی راستوں کو کھلا رکھنا عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس ملاقات میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال کے سائے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے تمام امور کے مرکز میں واقع ہے اور اس کا منصفانہ حل نکلے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطین کے بنیادی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اردن کے شاہ عبداللہ اور چینی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو ریاستی حل ہی فلسطین اسرائیل تنازع کے مستقل اور منصفانه حل کا واحد اور قابل عمل راستہ ہے۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کو اس دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے غزہ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کی شدید ضرورت پر بھی زور دیا۔ چین اور اردن نے فریقین پر زور دیا کہ وہ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معصوم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، اردن کے شاہ کا یہ دورہ اور دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ مؤقف کا اپنانا اس بات کا غماز ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ کی روایتی پالیسیوں کے متبادل کے طور پر چین جیسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی شراکت داری کی تلاش میں ہیں تاکہ خطے میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔