Business
پاکستان میں سونے کے نرخ: ایک تولہ سونا 4 لاکھ 87 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس کے بعد ایک تولہ سونا 4200 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔ ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 87 ہزار 136 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں جاری معاشی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی کے اثرات کے باعث سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں مزید 4200 روپے فی تولہ کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سونے کے نرخ 4 لاکھ 87 ہزار 136 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے جاری مسلسل اضافے نے خریداروں کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور عام آدمی کے لیے زیورات کی خریداری ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔
صرافہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں مسلسل اضافے اور مقامی سطح پر روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی طلب میں اضافے نے مقامی تاجروں کو بھی قیمتوں میں ردوبدل پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں کے دوران سونے کی قیمت میں لگاتار پانچ سے چھ ہزار روپے تک کا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور جیولرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی بنیادی وجہ ملکی معیشت کے غیر مستحکم حالات اور عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ ہے۔ جب تک ڈالر کی قدر میں استحکام نہیں آتا اور معاشی حالات بہتر نہیں ہوتے، سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان خارج از امکان نہیں۔ ملک بھر میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث جیولری انڈسٹری میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف تاجر بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کرنے والے خاندان بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
پاکستان کے معروف شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخوں میں اس اضافے کو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی تیزی قرار دیا جا رہا ہے۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے سونے کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ دوسری جانب، عالمی گولڈ مارکیٹ کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس سے معاشی بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔