LIVE
Loading Breaking News...

سوشل میڈیا پر خطرناک ڈرائیونگ اور ٹریفک حادثات کا بڑھتا ہوا رجحان

News Image
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خطرناک ڈرائیونگ کی ویڈیوز کی آسانی سے دستیابی نوجوانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا رہی ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی ایسی ہی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ٹک ٹاک پر خطرناک ڈرائیونگ کی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد معاشرے کے لیے ایک تشویشناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ حال ہی میں ایک ہولناک ٹریفک حادثے میں جان گنوانے والے نوجوانوں کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک نوجوان ایسی ویڈیوز میں نظر آیا ہے جن میں وہ خطرناک طریقے سے گاڑی چلاتے ہوئے دکھائی دے رہا تھا۔ یہ ویڈیوز نہ صرف خود ڈرائیور کے لیے بلکہ سڑک پر چلنے والے دیگر افراد کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ میں اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کر رہی۔ ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کے الگورتھمز اور 'وائرل' ہونے کی خواہش نوجوانوں کو ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی طرف راغب کر رہی ہے۔ جب کوئی نوجوان سڑک پر تیز رفتاری یا خطرناک کرتب دکھا کر ویڈیو اپ لوڈ کرتا ہے، تو اسے ملنے والی توجہ اور لائیکس اسے مزید خطرناک کام کرنے پر اکساتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مہلک چکر ہے جس کا انجام اکثر المناک حادثات کی صورت میں ہوتا ہے۔ والدین، اساتذہ اور حکومتی اداروں کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ سوشل میڈیا کے اس منفی استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر نظر رکھیں اور ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تعلیمی اداروں میں بھی سڑک پر ذمہ دارانہ رویے اور ڈرائیونگ کے اصولوں کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں کہ وہ ایسی ویڈیوز کو اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹائیں اور خطرناک ڈرائیونگ کو فروغ دینے والے مواد کے خلاف سخت پالیسیاں مرتب کریں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا پر چند منٹ کی شہرت یا ویوز حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔ سڑکیں تفریح گاہ نہیں بلکہ سفر کے ذرائع ہیں، جہاں ڈرائیونگ کے دوران احتیاط اور قانون کی پاسداری سب سے اہم ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں زندگی کی اہمیت اور ٹریفک قوانین کے احترام کے بارے میں آگاہ کریں۔ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ہم اس بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان پر قابو پا کر اپنے نوجوانوں کو حادثات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔