World
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں بنیادی ڈھانچے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا
اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں پانی صاف کرنے والے اہم پلانٹ اور ایک مسجد کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جہاں اسرائیلی فورسز نے اپنی حالیہ کارروائیوں کے دوران پانی صاف کرنے والے ایک انتہائی اہم پلانٹ اور ایک مقامی مسجد کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ غزہ کے شہریوں کے لیے پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ پانی کا پلانٹ تباہ ہونے سے ہزاروں افراد کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جس سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا عمل عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی صاف کرنے والا پلانٹ غزہ کے ان چند مراکز میں سے ایک تھا جو شہریوں کی پیاس بجھانے کے لیے کام کر رہا تھا۔ مسجد پر حملے نے بھی مقامی آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ جنگ کے دوران مذہبی مقامات پر حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھے جاتے ہیں۔
غزہ میں پہلے ہی خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے، اور اب تازہ ترین حملوں نے انفراسٹرکچر کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ ہوئی اور تباہ شدہ سہولیات کو بحال نہ کیا گیا تو انسانی المیہ بے قابو ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک ان حملوں کے حوالے سے کوئی تفصیلی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم زمینی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ عالمی طاقتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مداخلت کریں تاکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی لوگ اب کھلے آسمان تلے اور شدید مشکلات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کے لیے بھی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔