LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں جاری تشدد اور پوگرام کی تعریف

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کو بین الاقوامی مبصرین نے 'پوگرام' کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ تشدد محض معمولی جھڑپیں نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر کیے جانے والے حملے اب ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ ان واقعات کو محض 'جھڑپیں' قرار دینا حقائق کو چھپانے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان حملوں کی نوعیت، شدت اور جس طرح یہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیے جاتے ہیں، وہ تاریخ میں 'پوگرام' (Pogrom) کی تعریف پر بالکل پورا اترتے ہیں۔ پوگرام کا مطلب ایک خاص گروہ کے خلاف منظم تشدد، قتل و غارت اور تباہی پھیلانا ہے تاکہ انہیں خوفزدہ کر کے ان کے علاقوں سے بے دخل کیا جا سکے۔ مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد صرف انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا سلسلہ بن چکا ہے جس میں اکثر سرکاری اداروں کی خاموشی یا درپردہ حمایت بھی دیکھی گئی ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی کو باقاعدگی سے ان کے کھیتوں، گھروں اور روزگار کے ذرائع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جب آباد کار نقاب پوش ہو کر دیہاتوں پر حملہ کرتے ہیں، گاڑیاں نذر آتش کرتے ہیں اور فصلوں کو تباہ کرتے ہیں، تو یہ ان کی بنیادی زندگی گزارنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش ہوتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسے ایک وقتی جھگڑے سے نکال کر منظم نسلی امتیاز اور جبر کی سطح پر لے آتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ان کارروائیوں کو درست تناظر میں دیکھا جائے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں بھی اس بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے ان واقعات کو درست نام نہیں دیا اور انہیں روکنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے، تو یہ خطے میں مزید غیر مستحکم حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور فلسطینیوں کے خلاف جاری یہ کارروائیاں براہ راست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جس کا مقصد علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا اور فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔ مجموعی طور پر، مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال ایک گہرے انسانی المیے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ وہاں کے رہائشی ہر لمحہ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، جہاں ان کا تحفظ خطرے میں ہے۔ 'پوگرام' جیسی اصطلاح کا استعمال محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ان سنگین جرائم کی عکاسی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس منظم تشدد کے خلاف آواز اٹھائے اور مظلوم فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے۔