Technology
سائنس کی بڑی کامیابی: کوانٹم ہیٹ ویوز اب عام درجہ حرارت پر ممکن
طبیعیات کے شعبے میں محققین نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار کمرے کے عام درجہ حرارت پر کوانٹم ہیٹ ویوز کو ریکارڈ کیا ہے۔ ماضی میں اس طرح کے مظاہر صرف انتہائی کم کریوجینک درجہ حرارت پر ہی دیکھے جا سکتے تھے۔
طبیعیات کی دنیا میں ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سائنسدانوں نے پہلی بار کوانٹم حرارتی لہروں (Quantum Heat Waves) کا مشاہدہ کمرے کے عام درجہ حرارت پر کیا ہے۔ اس سے قبل اس قسم کے پیچیدہ کوانٹم رویوں کو دیکھنے کے لیے سائنسدانوں کو انتہائی کم اور شدید سرد یعنی 'کریوجینک' (Cryogenic) درجہ حرارت کی ضرورت پڑتی تھی۔ یہ نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوانٹم کے قوانین کو سمجھنے اور ان کے عملی استعمال کے لیے ہمیشہ انتہائی سرد حالات درکار نہیں ہوتے۔
محققین کے مطابق، حرارت کی لہریں جو کوانٹم میکینکس کے اصولوں کے تحت سفر کرتی ہیں، اب عام ماحولیاتی حالات میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس کامیابی نے جدید فزکس کے ماہرین کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ عام طور پر کوانٹم اثرات بہت جلد ختم ہو جاتے ہیں جب انہیں کمرے کے درجہ حرارت پر لایا جاتا ہے، لیکن اس نئی پیش رفت میں ان لہروں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے طریقے دریافت کیے گئے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کے مستقبل میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس تحقیق کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں کمپیوٹر پروسیسنگ اور توانائی کے انتظام (Energy Management) کے شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔ اگر ہم کمرے کے درجہ حرارت پر کوانٹم اثرات کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو مستقبل کے آلات زیادہ تیز، زیادہ موثر اور توانائی کی بچت کرنے والے ہوں گے۔ یہ تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کوانٹم فزکس اب صرف لیبارٹریوں کی بند دیواروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے عام حالات میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
سائنسی برادری اس کامیابی کو ایک بہت بڑا سنگ میل قرار دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید تحقیقات سے یہ واضح ہو سکے گا کہ اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ ایک ابتدائی مرحلہ ہے، لیکن یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو چیزیں پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھیں، اب وہ جدید تحقیق کی بدولت حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔ نکسورا نیوز کے قارئین کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ انسانی علم اور ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔