Business
میڈیکل ٹیکنالوجی: بھارت کا میڈ ٹیک مینوفیکچرنگ مرکز بننے کا خواب
بھارت طویل عرصے سے طبی آلات کی درآمدات پر انحصار ختم کرنے اور مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومتی مراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے بھارت طبی آلات کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے بھارت میں میڈیکل ڈیوائسز یا طبی آلات کی تیاری کے حوالے سے جاری بحث کا مرکزی نکتہ درآمدات پر انحصار ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ کیئر منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، اس کے باوجود طبی آلات کی ایک بڑی مقدار بیرونی ممالک سے منگوائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس انحصار کو ختم کرنے کے لیے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا نہ صرف وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے 'میک ان انڈیا' کے تحت مختلف مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں راغب کیا جا سکے۔
عالمی میڈ ٹیک مینوفیکچرنگ حب بننے کے لیے بھارت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ تحقیق و ترقی (R&D) میں کم سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ بہت سے بھارتی مینوفیکچررز اب بھی بنیادی آلات تک محدود ہیں، جبکہ ہائی ٹیک تشخیصی مشینیں اور جدید سرجیکل آلات اب بھی درآمد کیے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے صنعت کاروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت نہ صرف ٹیکسوں میں چھوٹ دے بلکہ عالمی معیار کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کو بھی بہتر بنائے تاکہ برآمدات کے دروازے کھل سکیں۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ہنر مند افرادی قوت کی دستیابی بھی اس شعبے کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ بھارت میں میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے انجینئرز کی بڑی تعداد موجود ہے، اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بھارت اپنی سپلائی چین کو مضبوط بنائے اور عالمی معیار کی پروڈکشن لائنز قائم کرے، تو وہ بہت جلد سستی اور معیاری طبی مصنوعات کی تیاری میں دنیا کا مرکز بن سکتا ہے۔
آنے والے برسوں میں بھارت کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس طرح مقامی اسٹارٹ اپس کو حکومتی سہولیات فراہم کرتا ہے اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرتا ہے۔ اگر بروقت اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت لائی گئی، تو بھارت نہ صرف اپنی مقامی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک میڈیکل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس کے طور پر بھی ابھرے گا۔ اس سے نہ صرف ہیلتھ کیئر کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ لاکھوں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔