LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلی: پیٹرو اسٹیٹ سے الیکٹرو اسٹیٹ کی طرف پیش قدمی

News Image
بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے توانائی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بھارت کو پٹرول پر انحصار ختم کر کے قابل تجدید توانائی اور جوہری توانائی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
نئی دہلی میں منعقدہ ای ٹی ورلڈ لیڈرز فورم کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو اب اپنی معاشی اور توانائی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سینٹرز اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی بڑھتی ہوئی مانگ نے توانائی کے روایتی ذرائع پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مقررین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب ایک 'پیٹرو اسٹیٹ' سے نکل کر 'الیکٹرو اسٹیٹ' کے طور پر خود کو متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کا واحد راستہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) اور جوہری توانائی (Nuclear Energy) کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری ہے۔ جیسے جیسے بھارت ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے، ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے شمسی، ہوائی اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کا نیٹ ورک وسیع کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے اس ٹرانزیشن کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک کی صنعتی ترقی کی رفتار برقرار رہے۔ اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ بھارت میں جس طرح سے ای-وہیکل انڈسٹری فروغ پا رہی ہے، اس کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم الیکٹرک گرڈ کی ضرورت ہے۔ 'الیکٹرو اسٹیٹ' بننے کا مقصد یہ ہے کہ ملک اپنی تمام تر توانائی کی ضروریات کو برقی ذرائع سے پورا کرے، جس سے نہ صرف درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ مستقبل کے حوالے سے یہ حکمت عملی بھارت کو عالمی سطح پر ایک خود کفیل توانائی مرکز کے طور پر ابھار سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنی توانائی کی پالیسیوں کو عالمی رجحانات کے مطابق تبدیل نہ کیا تو اسے مستقبل میں شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا، حکومت اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ گرین انرجی اور جوہری توانائی کے منصوبوں کو فوری طور پر تیز تر کریں تاکہ ایک پائیدار معاشی مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔