Technology
مصنوعی ذہانت اور کارپوریٹ لیڈرشپ: کرسٹوف شوئٹزر کا اہم تجزیہ
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے سی ای او کرسٹوف شوئٹزر نے کہا ہے کہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو کس طرح پرکھتی ہیں، یہی ان کی مستقبل کی کامیابی کا اہم ترین فیصلہ کن عنصر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کو پیداواری طور پر اپنانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (BCG) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرسٹوف شوئٹزر نے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی سطح پر کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) کو کس طرح جانچتی اور اسے اپنے کاروباری ماڈل میں شامل کرتی ہیں، یہی طریقہ کار مستقبل میں فاتح کمپنیوں کا تعین کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکنالوجی کا ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ سی ای او حضرات کو اپنی تکنیکی سمجھ بوجھ کو انسانی قیادت کی مہارتوں کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ یہ توازن ہی کاروباری اداروں کو مسابقتی دنیا میں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔
شوئٹزر نے اپنے تجزیے میں ہندوستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو مؤثر اور پیداواری انداز میں اپنانے کے لیے انتہائی موزوں پوزیشن رکھتا ہے۔ ملک کی تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں اسے عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بناتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کا مطلب ملازمتوں کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ یہ کارکردگی بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔
آٹومیشن کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے باوجود، شوئٹزر نے نشاندہی کی کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں انٹری لیول (بنیادی سطح) پر بھرتیوں کا عمل تاحال مستحکم ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کام کرنے کے طریقے تبدیل ہو رہے ہیں، لیکن اس سے نئے قسم کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں جو مہارت پر مبنی ہیں۔ آئی ٹی سروسز کے شعبے میں، جہاں آٹومیشن کا عمل تیز ہے، وہاں بھی انسانی مہارتوں کی مانگ برقرار ہے۔
آخر میں، بی سی جی کے سربراہ کا ماننا ہے کہ جو کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے وقت طویل مدتی وژن رکھتی ہیں، وہی آگے چل کر مارکیٹ پر غلبہ حاصل کریں گی۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک ٹول نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنائیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے معاشی حالات سے فائدہ اٹھا سکیں۔