Technology
AI کے بعد ملازمین کی واپسی: کمپنیوں کا بڑا یو ٹرن
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نصف سے زائد آجروں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پیش نظر ملازمین کو نوکری سے نکالنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہے۔ اب کمپنیاں ان ملازمین کو کم تنخواہ پر دوبارہ ملازمت پر رکھ رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے فروغ کے بعد دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا تھا۔ تاہم، اب ایک حیران کن رجحان سامنے آ رہا ہے جہاں کمپنیاں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ فارسٹر (Forrester) کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً 55 فیصد آجروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے نام پر ملازمین کو نکالنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں نصف سے زیادہ ایسی ملازمتیں بحال کر دی جائیں گی جو AI کے نفاذ کی وجہ سے ختم کی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واپسی روایتی انداز میں نہیں ہو رہی بلکہ کمپنیاں ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بہت سے آجر ان ملازمین کو دوبارہ ملازمت کی پیشکش کر رہے ہیں لیکن یا تو انہیں بیرونِ ملک (آف شور) بھیجا جا رہا ہے یا پھر انہیں پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل دراصل ان کمپنیوں کی ناکامی کا اعتراف ہے جو سمجھتی تھیں کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی مکمل جگہ لے لے گی، لیکن عملی میدان میں انہیں پیچیدہ امور کو حل کرنے کے لیے انسانی تجربے اور ذہانت کی ضرورت دوبارہ محسوس ہو رہی ہے۔
یورپ میں بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں قانون ساز اداروں نے کام کی جگہ پر تبدیلیوں کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ اب وہاں کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ملازمین کی برطرفی یا تکنیکی تبدیلیوں سے قبل مشاورتی عمل سے گزریں۔ یہ حکومتی اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے نام پر افرادی قوت کا استحصال نہ ہو۔ دنیا بھر کے لیبر مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ AI پیداواری صلاحیت بڑھانے میں معاون ہے، لیکن انسانی عمل دخل کے بغیر کام کا معیار اور تخلیقی صلاحیت برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
اس رجحان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی روزگار کے مواقع چھین رہی ہے یا یہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے اپنی ورکنگ ماڈل کو تبدیل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ملازمین کے لیے یہ صورتحال ایک طرف خوش آئند ہے کہ ملازمتیں واپس آ رہی ہیں، لیکن دوسری جانب کم تنخواہ کی شرائط ان کے لیے معاشی تشویش کا باعث بھی ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کی کمپنیاں اپنے ورک فورس اور ٹیکنالوجی کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہیں۔