LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی تحقیق و ترقی کی صورتحال: اخراجات بڑھے مگر اہداف ادھورے

News Image
بھارت کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیق و ترقی (R&D) کے بجٹ میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم جی ڈی پی کے تناسب سے تحقیق کی شدت (R&D Intensity) میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
بھارت کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں تحقیق اور ترقی (R&D) پر ہونے والے مجموعی اخراجات میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق 2013-14 کے مالی سال میں یہ اخراجات 79,356 کروڑ روپے تھے جو بڑھ کر 2025-26 تک تقریباً 3,13,007 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت نے ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے اپنے وسائل میں چار گنا اضافہ کیا ہے تاکہ ملک کو عالمی سطح پر ایک اہم سائنسی مرکز بنایا جا سکے۔ تاہم، ان ظاہری اعداد و شمار کے باوجود ماہرین معیشت اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ملک کی 'آر اینڈ ڈی شدت' (R&D Intensity) یعنی جی ڈی پی کے تناسب سے تحقیق پر خرچ ہونے والی رقم میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایک ترقی پذیر معیشت کے طور پر، بھارت اپنی جی ڈی پی کا بہت کم حصہ تحقیق پر خرچ کر رہا ہے، جو کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہے۔ جب تک مجموعی پیداوار کے تناسب سے یہ شرح نہیں بڑھتی، صرف بجٹ میں اضافہ طویل مدتی سائنسی انقلاب لانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو سکتا۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی شعبے کی جانب سے تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حکومتی فنڈنگ تو بڑھ رہی ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر ابھی تک تحقیق کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے سے گریزاں ہے۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے پالیسی سازوں کو ایسی ترغیبات متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو نجی کمپنیوں کو جدید ٹیکنالوجی، ایجادات اور سائنسی تجربات میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ تحقیق پر مبنی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز کے درمیان گہرا ربط قائم کیا جائے تاکہ قومی سرمایہ صحیح سمت میں خرچ ہو سکے۔ آنے والے برسوں میں بھارت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح سائنسی تحقیق کے معیار کو بہتر بناتا ہے اور اسے معاشی ترقی کا انجن بناتا ہے۔ محض بجٹ کی فراہمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ تحقیق کا نتیجہ جدید مصنوعات، پیٹنٹ اور عالمی سطح کی ٹیکنالوجی کی شکل میں سامنے آئے۔ اگر حکومت تحقیق کی شدت کو بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوتی تو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دیگر ممالک کے مقابلے میں بھارت کے لیے اپنی برتری برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہو سکتا ہے۔