LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران کی 45 آئل ٹینکرز کو دھمکی

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 45 آئل ٹینکرز کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزی پر ان جہازوں کو بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں یا انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں سمندری حدود اور بین الاقوامی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے 45 آئل ٹینکرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ان جہازوں نے سمندری قوانین کی پاسداری نہ کی تو انہیں بھاری جرمانے ادا کرنے ہوں گے یا پھر حکام ان کے مال بردار جہازوں کو ضبط کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس اقدام نے خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستے میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی ترسیل کا سب سے حساس اور اہم راستہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ان کی قومی خودمختاری کے تحفظ اور سمندری حدود کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے، تاہم عالمی برادری اسے تیل کی سپلائی لائن کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کر رہی ہے۔ بین الاقوامی جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ حلقوں میں اس اعلان پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹینکرز کو ضبط کرنے کی دھمکی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے کیے جانے والے اس سخت موقف کا مقصد مبینہ طور پر مغربی دباؤ اور خطے میں امریکی موجودگی کے جواب میں اپنی طاقت کا اظہار کرنا ہے۔ مستقبل میں اس صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ ممالک کس طرح اس کشیدگی کو حل کرتے ہیں۔ اگر ایران عملی طور پر ان جہازوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو خلیجی خطے میں عسکری اور سفارتی محاذ پر ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی یا تجارتی رکاوٹ کو روکا جا سکے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔