LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ کا نیا دفاعی اتحاد اور ٹرمپ کی حکمت عملی

News Image
مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے پیش نظر اطلاعات ہیں کہ ایران کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ ایک دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے کم ہونے اور ایک آزاد سکیورٹی بلاک کے قیام کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں خطے کے اہم ممالک ایران، سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین ایک نئے دفاعی اور سکیورٹی معاہدے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی جانب سے ایک ایسے اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے جسے مبصرین 'اسلامک نیٹو' کا نام دے رہے ہیں۔ یہ اقدام خطے میں دہائیوں سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور ایک خودمختار سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس نئے اتحاد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا ایسا بلاک بننے جا رہا ہے جسے تشکیل دینے کے لیے واشنگٹن کی اجازت یا مرضی کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں خطے کے دفاعی امور پر امریکی اثر و رسوخ کا غلبہ رہا ہے، تاہم اب علاقائی طاقتیں اپنی سکیورٹی کے معاملات خود سنبھالنے کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے ممالک اب آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر علاقائی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ بیرونی مداخلت کو کم کیا جا سکے۔ یہ صورتحال نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر یہ اتحاد کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں امریکی سٹریٹجک اہمیت کم ہو سکتی ہے اور واشنگٹن کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ ٹرمپ کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کے تناظر میں، خطے کے ممالک کا یہ خود مختار رویہ امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس اتحاد کو ابھی 'کریڈیبلٹی' یا ساکھ کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین تاریخی کشیدگی، جس میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے، اور دیگر ممالک کے متنوع مفادات اس اتحاد کے لیے امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور ایران کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مشرق وسطیٰ اب اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ ممالک اپنے اختلافات کو مکمل طور پر ختم کر کے ایک مضبوط دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر پاتے ہیں یا یہ صرف ایک سفارتی بیان بازی تک محدود رہے گا۔ بہرحال، یہ پیشرفت خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔