LIVE
Loading Breaking News...

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی کانفرنس: SCO کی 25 سالہ کارکردگی اور مستقبل

News Image
شنگھائی تعاون تنظیم اپنی قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر عالمی سطح پر ایک اہم ترین اتحاد کے طور پر ابھر رہی ہے۔ کرغزستان میں منعقد ہونے والی آئندہ سربراہی کانفرنس میں تجارتی راہداریوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) رواں برس اپنی قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے، جس کے ساتھ ہی اس تنظیم کی عالمی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اپنی تاسیس سے لے کر آج تک، یہ ادارہ یوریشیا کے خطے میں سلامتی، اقتصادی تعاون اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا ہے۔ کرغزستان میں ہونے والی آئندہ سربراہی کانفرنس اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ یہ تنظیم کے مستقبل کے لائحہ عمل اور بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اس کے کردار کا تعین کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران SCO نے نہ صرف اپنے رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کیے ہیں بلکہ اب یہ عالمی تجارت کے نئے راستوں کی تلاش میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سربراہی کانفرنس کا ایک مرکزی نکتہ 'یوریشین تجارتی راہداریوں' کا قیام ہے۔ حالیہ عالمی ہلچل اور تجارتی کشیدگی کے تناظر میں، رکن ممالک ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ تنظیم کا مقصد وسطی ایشیا سے لے کر دیگر خطوں تک تجارت کو سہل بنانا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں کی فہرست بھی تنظیم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں ایشیا کے اہم ممالک کے سربراہان مملکت اور حکومتیں شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کا ایک چھت تلے جمع ہونا اس بات کا غماز ہے کہ رکن ممالک علاقائی مسائل کے پرامن حل کے لیے SCO کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ بشکیک سربراہی کانفرنس میں تنظیم کے اگلے 25 سالوں کے وژن پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں تنظیم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام، اور سرحدی تنازعات کو کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ SCO کو مزید مستحکم بنایا جائے اور اسے ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ڈیجیٹل معیشت جیسے جدید شعبوں میں بھی فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔ سربراہی اجلاس کے دوران نہ صرف دو طرفہ ملاقاتیں ہوں گی بلکہ کثیر جہتی تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے، جن سے خطے کے کروڑوں عوام کی معاشی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ یہ سربراہی اجلاس ثابت کرے گا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اب محض ایک علاقائی فورم نہیں بلکہ عالمی معاملات میں ایک اہم آواز بن چکی ہے۔