LIVE
Loading Breaking News...

یمن حوثی حملہ: سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے قریب بحری جہاز نشانہ

News Image
یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے قریب ایک بحری جہاز پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی شپنگ کمپنی نے بھی بحیرہ احمر میں اپنے ایک جہاز کو حملے کا نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر بحیرہ احمر میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے قریب ایک بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی افواج نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے میں ایک جہاز کو اہداف کے طور پر منتخب کیا جس کے بعد وہاں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی ایک نجی شپنگ کمپنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک تجارتی جہاز بحیرہ احمر کے پانیوں میں حملے کی زد میں آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع فی الحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ سعودی حکام نے اس واقعے کو خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ یہ واقعہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں حوثی باغی سعودی عرب کے زیر انتظام اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا دراصل خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کا ایک حصہ ہے جو عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں موجود عالمی بحری افواج نے بھی اپنی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ تجارتی جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعووں کی تردید بھی سامنے آتی رہی ہے، جن میں سے کچھ کو پرانی ویڈیوز یا غلط معلومات قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس حالیہ واقعے میں سعودی شپنگ کمپنی کی جانب سے تصدیق نے ان دعووں کو سنجیدہ نوعیت کا بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے یمن کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں تاکہ خطے کے استحکام اور عالمی تجارت کو مزید کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔