LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی نئی اقتصادی پابندیاں اور ایران کا جواب

News Image
ایران کے وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے امریکی معاشی دباؤ کی مہم کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنی معاشی حکمت عملی جاری رکھے گا۔
ایران کے وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی معاشی پابندیوں کی مہم، جسے 'اقتصادی ڈی ڈے' کا نام دیا گیا ہے، پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری بیان میں تہران نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایران کی خود مختار معیشت کو نشانہ بنانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔ وزیر اقتصادیات کے مطابق، یہ پابندیاں ایران کے خلاف مسلسل دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں جن کا مقصد ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی ناکامیوں کا غصہ ایران پر معاشی بندشوں کے ذریعے نکال رہا ہے۔ تہران میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی ایسی پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے اور ان کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے ملک کے پاس متبادل معاشی حکمت عملی موجود ہے۔ ایرانی حکومت نے مقامی صنعتوں اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ علی مدنی زادہ نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور نہ ہی یہ پابندیاں ایران کے میزائل اور علاقائی دفاعی پروگراموں کو روک سکتی ہیں۔ ملک کے معاشی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگرچہ بیرونی پابندیاں وقتی طور پر تجارتی رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں، تاہم ایران اپنی تجارت کے نئے راستے تلاش کرنے میں کامیاب رہے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی امریکی پابندیاں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یورپی ممالک اور چین نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کو مسترد کرے تاکہ عالمی تجارت میں توازن برقرار رہ سکے۔ فی الحال، تہران نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کرے تاکہ عوام کو ممکنہ معاشی مشکلات سے بچایا جا سکے اور ملکی پیداوار کا تسلسل برقرار رہے۔