World
جنوبی سوڈان میں امن مشن پر حملہ، عالمی برادری تشویش میں مبتلا
جنوبی سوڈان میں مسلح افراد کی جانب سے امن دستوں پر کیے گئے اچانک حملے میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہونے کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
جنوبی سوڈان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک موڑ پر آ گئی ہے، جہاں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے دستوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں کئی امن کار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید تین اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی حکام اور عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جس نے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ امن دستوں پر اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور کسی مخصوص گروہ کی جانب سے باضابطہ دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔
اس حملے کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری عدم استحکام کے خدشات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان جس طرح سے نسلی اور سیاسی کشیدگی سے گزر رہا ہے، یہ حملہ اس بات کا غماز ہے کہ ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک پہلے ہی اندرونی خلفشار اور معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی پہلے ہی خطرے میں ہے۔
دوسری جانب، عالمی برادری نے جنوبی سوڈان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امن دستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ امن مشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے ان کی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، تاہم وہ اپنے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انسانی امداد پہنچانے والے اداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی طاقتوں نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ ملک کو دوبارہ خونریزی سے بچایا جا سکے۔