LIVE
Loading Breaking News...

طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور خود مختار ادویات کا مستقبل

News Image
اسرائیل میں قائم ہیلتھ کیئر اے آئی سینڈ باکس طبی شعبے میں خود مختار ٹیکنالوجی کے انضمام کے لیے ایک اہم تجربہ گاہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا انحصار شفاف شواہد، سخت نگرانی اور واضح جوابدہی کے نظام پر ہے۔
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس نئی لہر کے ساتھ ریگولیٹری چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار اور ماہرین کی آراء کے مطابق، اسرائیل میں قائم ہیلتھ کیئر اے آئی سینڈ باکس ایک ایسا اہم تجربہ گاہ بن کر ابھرا ہے جو مستقبل میں 'خود مختار ادویات' (Autonomous Medicine) کی راہ ہموار کرنے کے لیے ریگولیٹری امتحان کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مریضوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والی ٹیکنالوجی کو بغیر کسی جانچ پڑتال کے متعارف نہ کروایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس تب ہی عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہے جب اسے شفاف شواہد اور سخت نگرانی کے فریم ورک کے تحت نافذ کیا جائے۔ اسرائیل کا یہ ریگولیٹری ماڈل اس بات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے کہ کیسے اے آئی الگورتھمز انسانی مداخلت کے بغیر طبی تشخیص یا ادویات کی تجویز دے سکتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے بڑا چیلنج اخلاقی ذمہ داری اور جوابدہی کا تعین کرنا ہے، تاکہ کسی بھی تکنیکی غلطی کی صورت میں مریضوں کو لاحق خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس سینڈ باکس کے ذریعے حکام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا موجودہ قوانین اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔ خود مختار ادویات کا تصور اگرچہ بہت پرکشش ہے، مگر اس کے لیے ایک مستحکم قانونی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔ جیسے جیسے ہم خود مختار ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ویسے ویسے مریضوں کی حفاظت اور ڈیٹا پرائیویسی کے عالمی معیارات کو اپڈیٹ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ آخر میں، یہ منصوبہ صرف ٹیکنالوجی کے فروغ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح حکومتیں اور ٹیکنالوجی ادارے مل کر ایک محفوظ ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کا یہ ماڈل کامیاب رہتا ہے تو اسے دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے ایک نمونہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، جس سے صحت کی نگہداشت کے نظام میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔