LIVE
Loading Breaking News...

الیانز کمپنی میں ٹیکنالوجی تبدیلی کے نام پر آؤٹ سورسنگ کا انکشاف

News Image
جرمن انشورنس کمپنی الیانز کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبدیلی کے دعوے دراصل اخراجات کم کرنے اور کام آؤٹ سورس کرنے کا ایک طریقہ ثابت ہوئے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں آسٹریلیا میں ایک تہائی ملازمین متاثر ہوئے ہیں جس سے کمپنی کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی انشورنس کمپنی 'الیانز' کی جانب سے اپنے ٹیکنالوجی فنکشن کو جدید بنانے اور اسے ایک 'تبدیلی' کا نام دینے کا منصوبہ دراصل اخراجات کم کرنے اور کام کو دوسرے ممالک منتقل کرنے (آؤٹ سورسنگ) کی ایک منظم کوشش ثابت ہوا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور داخلی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کی جانب سے کی جانے والی اس نام نہاد ڈیجیٹل تبدیلی کا مقصد ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کے بجائے آپریشنل اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرنا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں، صرف آسٹریلیا میں موجود الیانز کے ٹیکنالوجی ڈویژن کے ایک تہائی ملازمین براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جس نے دنیا بھر میں کمپنی کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی کارپوریٹ کمپنیاں اکثر 'ٹیکنالوجی ٹرانسفارمیشن' یا 'جدت' جیسے خوشنما الفاظ کا سہارا لے کر اپنی افرادی قوت میں کٹوتی کرتی ہیں تاکہ حصص یافتگان کو منافع دکھایا جا سکے۔ الیانز کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مقامی ملازمین کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یہ تبدیلی کمپنی کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، تاہم بعد میں یہ واضح ہوا کہ اس عمل کا اصل محور ملازمتوں کو سستے ممالک منتقل کرنا تھا۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اور کمپنی نے اپنی کارکردگی بڑھانے کی آڑ میں ہزاروں تجربہ کار افراد کو نوکریوں سے محروم کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا کمپنیاں اپنی ڈیجیٹل حکمت عملیوں کو اخراجات کم کرنے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ الیانز کی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ان الزامات پر کوئی جامع ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف ملازمین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ طویل مدت میں کمپنی کی تکنیکی مہارت اور سروس کے معیار پر بھی برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر انشورنس کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی اہمیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے، ایسے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی کٹوتیوں سے کمپنی اپنے ہی صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔