Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی: امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا۔ اس سیاسی اور عسکری بحران کے اثرات براہ راست مارکیٹ پر پڑے اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں سینکڑوں پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے براہ راست اسٹاک مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والے اس تناؤ اور خلیجی خطے کی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں پرافٹ ٹیکنگ اور حصص کی اندھا دھند فروخت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کاروباری ہفتے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔
ابتدائی اوقات میں مارکیٹ میں ہلکی پھلکی تیزی کا رجحان بھی دیکھا گیا تھا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث تمام ابتدائی فوائد ضائع ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اپنایا اور اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کو ترجیح دی۔ اس دوران مارکیٹ کے مختلف سیکٹرز میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مجموعی کاروباری حجم اور قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا یہ ماحول اگر طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو یہ پاکستان سمیت خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی چوکنا ہیں اور وہ بین الاقوامی خبروں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ کے آئندہ کے رجحانات کا دارومدار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ میں کمی آتی ہے یا یہ بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے۔