LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی خلائی صنعت: نریندر مودی کا دنیا بھر کے ماہرین کو دعوت نامہ

News Image
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی نجی خلائی صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جو دنیا بھر کے ماہرین کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت کو عالمی سطح پر خلائی ٹیکنالوجی اور تحقیق کا مرکز بنانا ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی نجی خلائی صنعت کو ایک بڑا ہدف دیا ہے، جس کے تحت بھارت کو عالمی خلائی ماہرین کے لیے ایک پرکشش مرکز کے طور پر ابھارا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو ایک ایسا مضبوط اور جدید خلائی ایکو سسٹم بنانے کی ضرورت ہے جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کو اپنی جانب متوجہ کرے۔ اس ویژن کا مقصد بھارت کو عالمی خلائی منڈی میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر مستحکم کرنا ہے، جہاں ماہرین اپنے کیریئر کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے بھارت کا انتخاب کریں۔ مودی کا کہنا ہے کہ بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی خلائی صنعت میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو مستقبل کے تقاضوں کو پورا کر سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں خلائی تحقیق محض سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ نجی شعبے کی شمولیت سے اس میں انقلاب آ چکا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق نجی کمپنیوں کو تحقیق و ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کو فروغ مل سکے۔ اس حکومتی اقدام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خلائی شعبے میں کام کرنے والے بین الاقوامی ماہرین کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بھارت میں آ کر اپنے جدید آئیڈیاز پر کام کر سکیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ پالیسیوں میں نرمی اور جدید سہولیات کی فراہمی سے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنا زیادہ آسان اور منافع بخش ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نجی شعبہ حکومتی ویژن کے مطابق آگے بڑھتا ہے، تو بھارت بہت جلد دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو خلائی تحقیق کے میدان میں سب سے زیادہ ٹیلنٹ کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں کے درمیان اشتراک کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل کو خلائی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جا سکے اور انہیں جدید دور کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگی بلکہ بھارت کو تکنیکی طور پر خود انحصار اور عالمی سطح پر ایک بڑی خلائی طاقت بھی بنائے گی۔