LIVE
Loading Breaking News...

دفاعی خود انحصاری کے لیے بھارت کا نیا عزم: اون اِن انڈیا

News Image
بھارتی دفاعی حکام نے ملکی دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے لیے 'میک اِن انڈیا' سے آگے بڑھ کر 'اون اِن انڈیا' کے وژن پر زور دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری اور ملکی انٹلیکچوئل پراپرٹی کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے۔
بھارت کی دفاعی صنعت میں اس وقت ایک اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جہاں ماہرین اور پالیسی ساز اب 'میک اِن انڈیا' کے ابتدائی تصور سے آگے نکل کر 'اون اِن انڈیا' (Own in India) کے وژن پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد محض غیر ملکی ہتھیاروں کی بھارت میں اسمبلی یا مینوفیکچرنگ تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) مکمل طور پر مقامی ہو اور بھارتی انجینئرز اور سائنسدانوں کی ملکیت ہو۔ دفاعی حکام کا ماننا ہے کہ جب تک بھارت اپنے پاس پیٹنٹ اور ڈیزائن کی ملکیت نہیں رکھے گا، تب تک عالمی دفاعی منڈی میں خود انحصاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس تبدیلی کے پیچھے ایک اہم وجہ جدید ہتھیاروں کی تیاری میں درپیش چیلنجز ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں، حساس دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور اکثر اوقات ٹیکنالوجی کی منتقلی (Transfer of Technology) میں شرائط آڑے آتی ہیں۔ 'اون اِن انڈیا' کا ماڈل ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ بھارت نہ صرف اپنی فوج کی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کر سکے بلکہ عالمی منڈی میں ایک برآمد کنندہ کے طور پر بھی ابھر سکے۔ اس کے لیے تحقیق و ترقی (R&D) میں بھاری سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ حکومت اور دفاعی ادارے اب ایسے سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو سککیل ایبل (Scalable) ہوں، یعنی ان کی پیداواری صلاحیت کو ضرورت کے مطابق بڑھایا جا سکے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، اور ہائی ٹیک الیکٹرانک وارفیئر کے شعبے سر فہرست ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارتی دفاعی صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نئی روح پھونک دی جائے گی۔ آخر میں، اس وژن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کس حد تک مقامی سٹارٹ اپس اور دفاعی مینوفیکچررز کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اگر 'اون اِن انڈیا' کا یہ عمل کامیابی سے مکمل ہوتا ہے، تو بھارت آنے والے برسوں میں دفاعی سازوسامان کے معاملے میں خود کفیل ہو جائے گا اور عالمی سپلائی چین میں ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھرے گا۔ یہ تبدیلی بھارتی دفاعی سیکٹر کے لیے ایک نئی صبح کی نوید ہے جو ملک کو عالمی معیار کے فوجی سازوسامان بنانے والے ممالک کی صف میں شامل کر سکتی ہے۔