Technology
تصاویر کی اصلیت کی تصدیق: کیا اسمارٹ فونز جعلی اے آئی تصاویر کو روک سکیں گے؟
اسمارٹ فون ساز کمپنیاں اب ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جو صارفین کو تصاویر کی اصلیت اور ان کی تصدیق کرنے میں مدد دے گی۔ یہ اقدام آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی تصاویر کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سدباب کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی ترقی نے ڈیجیٹل دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ اگر تصویر ہے تو حقیقت ہے، لیکن آج مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر نے اس تصور کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب انٹرنیٹ پر ایسی حقیقت پسندانہ تصاویر کی بھرمار ہے جو اصل اور نقل کے درمیان فرق کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔ اسی سنگین مسئلے کے پیش نظر اسمارٹ فون بنانے والی بڑی کمپنیاں اب ایسی نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جس کے ذریعے یہ تصدیق ممکن ہو سکے گی کہ آیا کوئی تصویر اصلی کیمرے سے لی گئی ہے یا اسے کسی اے آئی ماڈل کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت تصاویر کے میٹا ڈیٹا اور ڈیجیٹل واٹر مارکنگ کو محفوظ بنایا جائے گا تاکہ صارف یہ جان سکے کہ تصویر کا ماخذ کیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم سہی، لیکن یہ اے آئی کے ذریعے پیدا کردہ وسیع تر بحران کا مکمل حل ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ ہوتے ہی تصاویر کا میٹا ڈیٹا ضائع ہو جاتا ہے یا اسے ہیکرز آسانی سے ہٹا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اوپن سورس اے آئی ٹولز اتنی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ کسی بھی ڈیجیٹل سیکیورٹی فیچر کو توڑنا ان کے لیے زیادہ مشکل کام نہیں رہا۔ اگرچہ یہ اقدام شفافیت لانے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صارفین کو ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) کے بارے میں مزید آگاہ کیا جائے تاکہ وہ خود ایسی تصاویر کی شناخت کر سکیں جو حقائق کے منافی ہوں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی صنعت کے معیار کے طور پر قبول کی جاتی ہے یا پھر اے آئی کے ماہرین اس کا بھی کوئی متبادل توڑ نکال لیں گے۔ بہرحال، یہ واضح ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سچائی کی تلاش اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اور اس کے لیے ہمیں تکنیکی اور سماجی دونوں محاذوں پر مستعد رہنا ہوگا۔