LIVE
Loading Breaking News...

ڈزنی کا 142 ملین ڈالر کا ٹیانا بے ایڈونچر ناکام قرار

News Image
ڈزنی کی جانب سے سپلیش ماؤنٹین کی جگہ متعارف کروائے گئے ٹیانا بے ایڈونچر کو دو سال بعد تکنیکی اور آپریشنل مسائل کا سامنا ہے۔ مبینہ طور پر یہ مہنگا ترین پراجیکٹ پارک کے معیار کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو گیا ہے۔
والٹ ڈزنی کمپنی کی جانب سے اپنے مشہور زمانہ رائیڈ 'سپلیش ماؤنٹین' کو تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے بھاری بھرکم اخراجات اب سوالات کی زد میں ہیں۔ ڈزنی نے 'ٹیانا بے ایڈونچر' نامی اس پروجیکٹ پر 142 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی تھی، جس کا مقصد میجک کنگڈم میں سیاحوں کے لیے ایک نیا اور پرکشش تجربہ فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس پروجیکٹ کے افتتاح کے دو سال گزرنے کے بعد اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ رائیڈ کمپنی کے مقرر کردہ اعلیٰ معیار اور آپریشنل توقعات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ ابتدائی طور پر جب اس رائیڈ کا اعلان کیا گیا تو شائقین کی ایک بڑی تعداد اس کے بارے میں کافی پرجوش تھی۔ ڈزنی کی انتظامیہ نے اس پروجیکٹ کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تھیمنگ کے ساتھ پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا تاکہ پرانی رائیڈ کی جگہ ایک یادگار تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تکنیکی خرابیوں، رائیڈ کی سست روی اور مہمانوں کی طرف سے ملنے والے ملے جلے ردعمل نے انتظامیہ کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ رائیڈ طویل عرصے تک بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے چلے گی، لیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورتحال نے ڈزنی کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ سپلیش ماؤنٹین ایک انتہائی مقبول اور کامیاب ترین رائیڈ سمجھی جاتی تھی۔ 'ٹیانا بے ایڈونچر' کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات نے انتظامیہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر نظرثانی کرے۔ ذرائع کے مطابق، رائیڈ کے مکینیکل نظام اور مہمانوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے اب مزید اقدامات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے اس پروجیکٹ کی مجموعی لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں ڈزنی کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ اس رائیڈ میں مزید سرمایہ کاری کر کے اسے ٹھیک کریں گے یا اسے کسی اور متبادل کے طور پر تبدیل کیا جائے گا۔ فی الحال یہ منصوبہ ڈزنی کے لیے ایک بڑی ناکامی اور انتظامی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے تھیم پارک کی دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا زیادہ خرچ کرنا ہمیشہ بہترین معیار کی ضمانت ہوتا ہے یا نہیں۔