LIVE
Loading Breaking News...

محمد باقر قالیباف کا ٹرمپ کو کرارا جواب، ٹوئٹر پر نئی بحث

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ قالیباف نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے ’میک امریکہ ہنگری اگین‘ کے طنزیہ جملے کا استعمال کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سوشل میڈیا دعووں اور جیت کے بعد کیے جانے والے تبصروں پر سخت اور طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ قالیباف نے ٹرمپ کے انتخابی بیانیے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور محض الفاظ کا دھوکہ ہیں۔ قالیباف نے ٹرمپ کے مشہور انتخابی نعرے 'میک امریکہ گریٹ اگین' کا رخ موڑتے ہوئے اسے 'میک امریکہ ہنگری اگین' یعنی امریکہ کو دوبارہ بھوکا بناؤ، کا طنزیہ نام دیا ہے۔ اس ردعمل کے پیچھے بنیادی وجہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی معاشی صورتحال اور دیگر امور پر کیے گئے دعوے بتائے جاتے ہیں۔ قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اعداد و شمار کا ایک سیٹ شیئر کیا جس کے ذریعے انہوں نے ٹرمپ کے دعووں کی تردید کرنے کی کوشش کی۔ ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے الفاظ کی طرح ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار بھی جعلی ہیں اور حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو امریکہ کی اندرونی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کے بیانیے کو ایک 'دھواں اور آئینے' کا کھیل قرار دیا جو عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تہران کی جانب سے اس ردعمل کو ایک اہم سیاسی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی طویل عرصے سے برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ قالیباف کا یہ اندازِ تکلم ایران کی جانب سے ایک مضبوط پیغام ہے کہ وہ امریکی بیانیے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید سردمہری آ سکتی ہے، جس کا اظہار اب سوشل میڈیا کے ذریعے کھلے عام کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ایرانی میڈیا میں بھی اس معاملے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے جہاں ٹرمپ کے دعووں کو 'بے بنیاد' قرار دیا گیا ہے۔ محمد باقر قالیباف کا یہ طنزیہ انداز اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اب امریکی بیانات پر خاموش رہنے کے بجائے انہیں عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ یہ کشمکش آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی محاذوں پر مزید گرمی پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب امریکہ میں نئی انتظامیہ نے امور سنبھالنا شروع کر دیے ہیں۔