LIVE
Loading Breaking News...

چین میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹرز کی دیہی علاقوں میں منتقلی

News Image
چین اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کو ملک کے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں منتقل کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سستی بجلی، ٹھنڈے موسم اور قابل تجدید توانائی کے وافر ذرائع سے فائدہ اٹھانا ہے۔
چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑی تزویراتی تبدیلی کا آغاز کیا گیا ہے۔ حکام نے اب اپنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کو گنجان آباد شہروں سے نکال کر ملک کے دور دراز اور دیہی صوبوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خاص طور پر گوزہو جیسے صوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جہاں کی جغرافیائی صورتحال، سستی زمین اور ٹھنڈا موسم جدید ترین کمپیوٹر سرورز کو چلانے کے لیے انتہائی موزوں ثابت ہو رہا ہے۔ اس منتقلی کے پیچھے سب سے اہم محرک توانائی کی بچت اور ماحول دوست ذرائع کا استعمال ہے۔ چینی حکومت نے نئی پالیسی نافذ کی ہے جس کے مطابق نئے بننے والے ڈیٹا سینٹرز کو اپنی درکار توانائی کا کم از کم 80 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں ہوا، شمسی توانائی اور پن بجلی کی فراہمی نسبتاً آسان اور سستی ہے، جس سے نہ صرف آپریٹنگ اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ چین کے گرین انرجی کے اہداف کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام طویل مدتی بنیادوں پر چین کی ٹیک انڈسٹری کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنا دے گا۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اکثر بڑے کاروباری مراکز کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کی بے پناہ طاقت کی ضرورت نے اس سوچ کو بدل دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے درکار سرورز کو مسلسل ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے قدرتی طور پر ٹھنڈا موسم اور پانی کے ذرائع بہترین ہیں۔ گوزہو جیسے خطے اب چین کے ڈیجیٹل حب کے طور پر ابھر رہے ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں سرورز نصب کیے جا رہے ہیں۔ چین کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اس سرمایہ کاری سے نہ صرف تکنیکی ترقی ہو رہی ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کی دھارے میں شامل کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید ایسے منصوبے متوقع ہیں جو چین کی ڈیجیٹل معیشت کو ایک نئی سمت دیں گے۔